ایک بیوہ عورت اپنے تین جوان بیٹیوں کے ساتھ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتی تھی۔ شوہر کے انتقال کے بعد اس نے بڑی محنت سے اپنی بیٹیوں کی پرورش کی۔ دن بھر کھیتوں میں کام کرتی، اور رات کو تھکی ہاری گھر واپس آتی۔ بیٹیاں بھی ماں کا دکھ سمجھتیں اور اس کا سہارا بننے کی کوشش کرتیں۔لیکن کچھ مہینوں سے ان کے گھر کے آس پاس ایک مشکوک شخص کا آنا جانا شروع ہو گیا۔ وہ گاؤں میں ایک عزت دار سمجھا جاتا تھا، مگر رات کے اندھیرے میں وہ ان کے گھر کے آس پاس منڈلاتا اور کوشش کرتا کہ کسی طرح گھر کے اندر داخل ہو ایک رات وہ بد کردار آدمی گھر میں داخل ہوگیا اور اسکی بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کرنے لگا بیوہ کو شک ہو گیا تھا، لیکن وہ کسی سے کچھ کہنے سے ڈرتی تھی۔ گاؤں کی روایات، لوگوں کی زبان اور اپنی بیٹیوں کی عزت کا خیال اسے چپ رہنے پر مجبور کرتا رہا۔بالآخر جب صورتحال بہت بگڑ گئی اور بیٹیوں کو بھی خوف محسوس ہونے لگا، تو بیوہ ہمت کر کے بادشاہ کے دربار پہنچی۔ اُس نے روتے ہوئے کہا، “میرے آقا، میری بیٹیوں کی عزت خطرے میں ہے، میرے پاس نہ کوئی مرد ہے، نہ کوئی مددگار۔ میں آپ سے انصاف مانگنے آئی ہوں۔”
بادشاہ نے ساری بات غور سے سنی اور کہا، “فکر نہ کرو، تمہیں انصاف ملے گا۔ لیکن جو میں کہوں، اس پر خاموشی سے عمل کرنااسی رات بادشاہ کے حکم سے بیوہ کے گھر کی چھت پر ایک حاملہ بکری باندھ دی گئی۔ آدھی رات کے وقت وہی شخص پھر دبے پاؤں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگا۔ جیسے ہی اس نے دیوار پھلانگی، بکری نے زور زور سے چیخنا شروع کر دیا۔ اُس کی آواز دور دور تک پھیل گئی۔ گاؤں والے جاگ گئے، پہرے دار دوڑ پڑے اور بادشاہ کے سپاہیوں نے اس شخص کو پکڑ لیا۔صبح ہوتے ہی اُسے دربار میں پیش کیا گیا۔ بادشاہ نے اسے سخت سزا سنائی اور کہا، “جیسے حاملہ جانور کی حالت چھپی نہیں رہتی، ویسے ہی ظلم اور برائی بھی کبھی نہیں چھپتی۔ جو مظلوم کے ساتھ زیادتی کرے، وہ عبرت کا نشان بنتا ہے۔”اس کے بعد بیوہ کی بیٹیوں کے لیے نیک، سچے اور باعزت رشتے آئے، اور ان کی زندگی ایک نئی سمت میں آگے بڑھنے لگی۔ بیوہ نے سکھ کا سانس لیا، اور شکر ادا کیا کہ اس نے ہمت کی، اور خاموشی کے پردے سے باہر آ کر سچ بولنے کی جرات کی اوراپنی بیٹیوں کو بچا لیا۔۔۔۔”
