یقین کا امتحان

دانش کی شادی فلک سے ایک سادہ مگر محبت بھری تقریب میں ہوئی۔ دونوں نے خواب سجائے تھے کہ ساتھ زندگی گزاریں گے، ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ دانش کو شادی کے فوراً بعد ایک غیر ملکی کمپنی میں نوکری کا موقع ملا، جس سے انکار ممکن نہ تھا۔ بہتر مستقبل کے خواب لیے وہ پردیس چلا گیا۔شروع میں تو سب کچھ ٹھیک رہا۔ وہ روزانہ فلک سے فون پر بات کرتا، اسے اپنی باتیں سناتا اور جلد واپسی کے وعدے کرتا۔ لیکن جلد ہی فلک کی ساس یعنی دانش کی ماں، فون پر آنے لگیں۔ وہ اکثر فلک کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتیں۔ “فلک تمہاری قدر نہیں کرتی”، “وہ گھر کے کاموں میں سستی کرتی ہے”، “اسے تمہاری پرواہ نہیں” ایسی باتوں نے دانش کے دل میں شک ڈالنا شروع کر دیا۔فلک نے کئی بار دانش سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر دانش کا رویہ بدل چکا تھا۔ اس نے آہستہ آہستہ فون کرنا چھوڑ دیا، اور پھر مکمل طور پر خاموشی اختیار کر لی۔ فلک نے صبر کا دامن تھامے رکھا، نہ شکایت کی، نہ شکوہ۔
پانچ سال گزر گئےدانش ایک دن اچانک وطن لوٹا۔ وہ عید کا موقع تھا۔ وہ بغیر اطلاع دیے اپنے گھر پہنچا تاکہ سب کو سرپرائز دے سکے۔ جب وہ فلک کو دیکھنے گیا، تو حیران رہ گیا۔ وہ خوبصورت، خوش مزاج لڑکی اب کمزور، لاغر، اور تھکی تھکی سی دکھائی دے رہی تھی۔ آنکھوں میں نمی، چہرے پر درد کی لکیر، مگر لبوں پر پھر بھی مسکراہٹ فلک نے بس اتنا کہا
“میں نے تمہارے لیے ہر طوفان کا سامنا کیا، صرف اس امید پر کہ ایک دن تم لوٹو گے۔ میں نے تمہاری ماں سے کچھ نہیں کہا کیونکہ وہ بھی ماں ہی تھیں۔ لیکن دل ہر روز ٹوٹتا رہا۔”
دانش کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
اگلے دن عید کی نماز کے بعد وہ فلک کے لیے تحفے لے کر کمرے میں گیا۔ مگر جب دروازہ کھولا، تو فلک فرش پر بے ہوش پڑی تھی۔

اسپتال لے جایا گیا، لیکن ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ بہت عرصے سے اندرونی دباؤ اور کمزوری کا شکار تھی۔
چند دن بعد، جب فلک کو ہوش آیا، دانش نے اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیےفلک، میں نے تم پر یقین نہیں کیا، لیکن تم نے میرے لیے خود کو مٹا دیا۔ کیا تم مجھے معاف کر سکتی ہو؟”
فلک نے کمزور سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
“محبت میں شک کی گنجائش نہیں، لیکن معافی کی ہمیشہ گنجائش ہوتی ہے۔۔
