
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں گھریلو بے برکتی کی وجہ اور اس کا حل
اسلامی نقطۂ نظر سے اگر ہم گھر میں بے برکتی یا مسلسل پریشانیوں کا مشاہدہ کریں، تو اس کے اسباب پر غور کرنا چاہیے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت منقول ہے کہ ایک خاتون نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے گھر کی پریشانیوں اور بے برکتی کی شکایت کی۔ انہوں نے پوچھا: “کیا تم رات کو برتن دھو کر سوتی ہو یا یونہی چھوڑ دیتی ہو؟” خاتون نے جواب دیا کہ وہ برتن دھوئے بغیر ہی سوتی ہے۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “تمہارے گھر کی بے برکتی کی ایک بڑی وجہ یہی ہےاس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ رات کو برتن صاف کیے بغیر سونا باعثِ نحوست اور بے برکتی کا سبب بن سکتا ہے۔ اگرچہ یہ بات روایات میں محدود درجے پر آئی ہے، لیکن اس میں ایک اہم تربیت موجود ہے۔
سائنس بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ اگر برتنوں کو دیر تک گندا چھوڑ دیا جائے تو ان میں جراثیم، بیکٹیریا اور نقصان دہ کیڑے پیدا ہو سکتے ہیں جو مختلف بیماریوں کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس لیے حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق بھی بہتر ہے کہ رات کو سونے سے قبل برتن دھو لیے جائیجہاں تک احادیثِ نبوی ﷺ کا تعلق ہے، تو براہِ راست کوئی ایسی حدیث ہمیں نہیں ملتی جس میں رات کو برتن دھونے کا حکم ہو، تاہم نبی کریم ﷺ نے سونے سے پہلے برتنوں کو ڈھانپنے کی تاکید ضرور فرمائی ہے۔ صحیح احادیث میں آیا ہے کہ:
“برتنوں کو ڈھانپ دو، مشکیزوں کے منہ باندھ دو، دروازے بند کر دو، چراغ بجھا دو اور برتن پر بسم اللہ کہہ کر کوئی چیز رکھ دو۔”
کیونکہ سال میں ایک رات ایسی آتی ہے جس میں آفت نازل ہوتی ہے اور اگر کوئی برتن کھلا ہوا ہو تو وہ مصیبت اس میں اترتی ہے
یہ تعلیمات صرف دینی حکمت پر مبنی نہیں بلکہ حفظان صحت کے اصولوں کے بھی عین مطابق ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی سنتیں دنیا و آخرت کی بھلائی کا ذریعہ ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان سنہری ہدایات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ ہم فلاح پا سکیں
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی پیاری سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔۔۔”
