ایک غلط فہمی سب ختم کر دیتی ہے

“غلط فہمی “

 

میری شادی میری بڑی بھابی سے ہوئی۔ میری بھابھی بہت سلجھی ہوئی سمجھدار تھی مگر بڑ ے بھائی نے انکی قدر نہ کی شراب کے نشے میں مرتے اور طلاق دیدی ۔جس کے بعد میری شادی میری بھابھی سے کرائی گئی مگر میں نے اپنی بھابی کو صاف بتا دیا تھا کہ وہ مجھ سے کسی بھی صورت امید نہ لگائیں۔ اور کچھ روز بعد ہی میں نے دوسری شادی کر لی
مگر میری بھابھی انہوں نے دوسری شادی نہ کی میرے ہی گھر کے کسی کونے میں پڑی رہتی
میری بھابی ملازم بن کر میرے ہی گھر کے ایک کمرے میں رہنے لگیں۔ کچھ ہی دنوں میں اچانک ایک روز ان کا پیٹ بڑھنے لگا۔ مجھے ان پر شک ہونے لگا
میں نے اپنی بیوی سے اپنی بھابی کو ڈاکٹر کو دکھانے کا مشورہ دیا۔ معلوم ہوا کہ اور وہ حاملہ ہو چکی تھیں مگر میرا ان سے ایسا کوئی رشتہ نہ تھا جو ایک میاں بیوی کے درمیان ہوتا ہے ۔
میں نے فوری طور پر سارا معاملہ اپنے بڑوں کے سامنے رکھا۔ میرے بڑوں نے میرے بڑے بھائی سے پوچھا اور زور دے کر معلوم کیا تو بڑے بھائی نے قبول کیا کے وہ بھابھی کو طلاق دینے کے بعد بھی انسے زبردستی کرتا اور دھمکا تا تھا یہ سب پتا لگنے کے بعد سب نے بھائ کو قصور وار ٹھرآیا اور۔
جب بچہ پیدا ہوا، وہ بچہ بالکل میرے جیسا تھا۔ سب
نے حیرت سے مجھے دیکھا، مگر میں خاموش رہامیرے اندر طوفان مچا تھا۔
پھر کچھ دن بعد میری بھابھی بچے کی پیدائش کے وقت انتقال فرما گئیں
کچھ دن بعد، ایک پرانا خط میرے ہاتھ لگا، جو میری بھابی نے میرے لیے چھوڑا تھا۔ اس میں لکھا تھا
“میں نے تمہیں ہمیشہ عزت دی، کبھی آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کی۔ مگر تمہارے بھائی نے کمزوری کا فائدہ اٹھایا، اور میں مجبوری میں خاموش رہی میں تم سے کبھی شکایت نہ کروں گی، کیونکہ تم نے مجھے عزت دی تھی
یہ پڑھ کر میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے مجھے احساس ہوا کہ کبھی کبھار جو دکھائی دیتا ہے، وہ سچ نہیں ہوتامیں نے خود کو ظالم بنایا، صرف حالات کوسمجھے بغیر فیصلہ کر لیا۔
میں نے اس بچے کو گود لے لیا اب وہ بچہ میرا بیٹا ہےخون کسی کا بھی ہو، مگر پرورش میری ہے۔۔ .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *